ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / این ایم سی بل کی مخالفت میں ڈاکٹروں کا احتجاج، تمام خدمات روک دیں 

این ایم سی بل کی مخالفت میں ڈاکٹروں کا احتجاج، تمام خدمات روک دیں 

Thu, 01 Aug 2019 23:24:12    S.O. News Service

نئی دہلی،یکم اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی کے ایمس اور آر ایم ایل سمیت کئی سرکاری اسپتالوں کے ریجیڈنٹ ڈاکٹروں نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں پیش کئے گئے قومی انسٹیٹیوٹ کمیشن (این ایم سی) بل کی مخالفت میں احتجاج کیا اور ایمرجنسی خدمات سمیت تمام خدمات روک دیں۔ ڈاکٹروں نے کام کا بائیکاٹ کیا، مارچ نکالے اور بل کے خلاف نعرے بازی کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ بل غریب مخالف، طالب علم مخالف اور غیر جمہوری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بل راجیہ سبھا میں منظور کیا جاتا ہے تو وہ اوپی ڈی، ایمرجنسی شعبہ، آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر میں کام نہیں کریں گے اور اپنا احتجاج غیر معینہ مدت کے لئے جاری رکھیں گے۔ایمس اور صفدر جنگ اسپتالوں کے ریجیڈنٹ ڈاکٹروں اور گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہے طالب علموں کے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے صبح رنگ روڈ پر ٹریفک متاثر ہو گیا۔پولیس نے انہیں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا۔لوک نائک جے پرکاش اسپتال، بی آر امبیڈکر میڈیکل کالج اور اسپتال، ڈی ڈی یو اسپتال اور سنجے گاندھی میموریل اسپتال کے ریجیڈنٹ ڈاکٹر بھی احتجاج میں شامل ہو گئے ہیں۔اس سے پہلیوزیر صحت ہرش وردھن نے بدھ کی رات ٹویٹ کیا کہ وہ این ایم سی بل کو جمعرات کو راجیہ سبھا میں پیش کریں گے۔انہوں نے ملک کے باشندوں کو یقین دلایا کہ اگر یہ تاریخی بل منظور ہو جاتا ہے تو اس سے طبی تعلیم کے شعبے میں بڑی تبدیلی ہوگی۔ این ایم سی بدعنوانی کے الزام جھیل رہی بھارتی طبی کونسل (ایم سی آئی) کی جگہ لے لے گا۔یہ بل 29 جولائی کو لوک سبھا میں منظور ہوا تھا۔ملک کے ڈاکٹروں اور طبی طالب علموں کو بل کے کئی دفعات پر اعتراض ہے۔آئی ایم اے نے ایم ایم سی بل کی دفعہ 32 کو لے کر تشویش ظاہر کی  ہے جس 3.5 غیر معالج لوگوں یا کمیونٹی ہیلتھ فراہم کرنے والوں کو لائسنس دینے کی بات کی گئی ہے۔


Share: